Home Life Sciences Bacteria are discovered in Pakistan that is beneficial for the fields

Bacteria are discovered in Pakistan that is beneficial for the fields

by Scienceooze
اب پاکستان ترقی کرے گا ایسے بیکٹیریا دریافت ہوئے

کورونا وائرئس سے آپ سب نے ہماری زندگیوں میں جراثییموں کی اہمیت کا اندازہ تو لگا ہی لیا ھوگا لیکن تمام جراثیم بیماریاں ہی نہیں پھیلاتے بلکہ، ان میں بہت سے ایسے جراثیم بی ہیں جو کے انسانوں اور پودوں کے لیے بہت فائدہ مند ہیں۔آج ہم ایسےہی جراثیموں کی بات کریں گے جو کے پودوں کے لیے فائدہ مند ہیں اور ہم ان سے کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

بیکٹریا کے متعلق کچھ دلچسپ معلومات

١-ایک انسان کے جسم میں3-1 کلوگرام تک بیکٹیریا ہوتے ہیں

٢-۔شوگر کے مریضوں کے لیے انسولین بھی بیکٹریا سے ہے تیار کروای جاتی ہے۔دودھ سے دہی بھی بیکٹیریا ہی بناتے ہیں۔اور کچھ بیکٹیریا ہمارے نظام انہضام میں موجود ہوتے ہیں اوریہ خوراک کو جسم میں جذب کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ جو لوگ دہی زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں یہ بیکٹیریا زیادہ پیدا ہوتے ہیں اور انکا نضام انہضام دوسروں سے بہتر ہوتا ہے .

٣-ایک ایکڑ میں 2 گائے کے وزن کے برابر بیکٹریا موجود ہوتے ہیں .بائیو فرٹیلائزر دو لفظوں کا مجموعہ ہے۔بائیو کا مطلب ہےزنده اور فرٹیلائزر کا مطلب ہےکھاد .بائیو-فرٹیلائیزر (زنده کھادیں)زنده کھادیں ذیادہ تر بیکٹیریااور فنجائی پر مشتمل ہوتی ہیں.لیکن ہم یہاں پر صرف بیکٹیریاکے بارے میں بات کریں گے۔بیکٹیریا قدرتی طور پر ہماری زمینوں میں پائے جاتے ہیں.جو کہ زمین کی زرخیزی کا ایک اہم جزو ہیں۔ موجودہ دور میں کیمیکل کھادوں اور کیمیکل اسپرے کے مسلسل استعمال نے زمین میں موجود بیکٹیریا دوسرے خوردبینی جانداروں کو نقصان پہنچایا ہے جس سے زمین کی زرخیزی پر بہت برا اثر پڑا ہے۔زمین میں موجود یہ بیکٹریا 2 طرح کے ہوتے ہیں :

فصلوں کے لیے فائدہ مند بیکٹیریا

فصلوں میں بیماریاں پھیلانے والے والے بیکٹیریا۔فائدہ مند بیکٹیریاکے استعمال کے فصلوں پر فوائد

ایسے بیکٹیریا دریافت ہوچکے ہیں جو زمین میں کھادوں کو ضائع ہونے سے بچا کر پودوں کو زیادہ سے زیادہ کھاد جذب کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں جس سے پودے کو عام حالات کی نصبت %30-25 تک زیادہ کھاد میسر ہوتی ہے اور پیداوار میں ٪20-15تک کا اضافہ دیکھنے میں آتا ہے .اس کے علاوہ یہ بیکٹیریا پودوں میں قوت مدافعت پیدا کر کے اسکو بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں اوربیماریوں پر آنے والے کیمیککل اسپرے کے خرچ کو کم کردیتے ہیں .یہ بیکٹریا پودوں کی جڑوں میں ایسے کیمیائی مادے خارج کرتے ہیں جس سے پودوں کی جڑیں لمبی اور گھنی ہوتی ہیں اور پودا زیادہ فاصلے سے پانی اور غذائی عناصر حاصل کرتا رہتا ہے .

لمبی جڑ فصل کو گرنے سے بھی محفوظ رکھتی ہے .یہ بیکٹریا پودے کی جڑ کے ارد گرد ایک تیہہ بنا کے رہتے ہیں اور اسکو مختلف قسم کی فنگل اور نیماٹوڈ کی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں .ہمارے ہاں گرمیوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے ایسی حالت میں پودے کا ٹرانسپائیریشن ریٹ بہت بڑھ جاتا ہے جسکی وجہ سے پودے کو زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی یہ بیکٹریا کچھ اہم خصوصیات کی بدولت پودے کو واٹر ایفی شینٹ بنا دیتے ہیں اور لمبی جڑ زیادہ پانی کو جذب کرنے میں مدد دیتی ہے جس سے پودا ذیادہ درجہ حرارت میں بھی پانی کی کمی کو برداشت کرنے کےقابل بن جاتا ہے .یہ بیکٹیریا کافی حد تک زمین میں پودوں پر نمکیات کے اثرات کو کم کر کے انکی بڑھوتری میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں .دوسری قسم کے بیکٹیریا اور فنجائی جو فصلوں میں بیماریاں پھیلاتے ہیں-

فنجائی کی بیماریاں

گندم اور مکئی کی کنگی اور کانگیاری ، پاؤڈری اینڈ ڈاؤنی میلڈیو وغیرہ۔بیکٹیریاکی بیماریاں: سکیب، روٹ راٹ اور بلائٹ۔عام طور پران بیماریوں کو کییمیکل سے کنٹرول کیا جاتا ہے لیکن فائدہ مند بیکٹیریا کا استعمال نا صرف ان بیماریوں کو کنٹرول کرتا ہے بلکہ کھاد کے طور پر کام کر کے ان کی پیداوار میں%20-15 اضافے کا سبب بھی بنتا ہے۔

You may also like